خونریزی بند کرو، اپنا وعدہ نبھاؤ": جموں کشمیرجوائینٹ ایکشن کمیٹی کی ایڈوائزری کونسل کی صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس سٹاف اور سیاسی قیادت سے راولاکوٹ میں خونریزی روکنے کی اپیل

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کی ایڈوائزری کونسل نے صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر، چیف آف ڈیفنس سٹاف اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ایک ہنگامی مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں راولاکوٹ اور آزاد جموں و کشمیر بھر میں جاری خونریزی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

6/8/20261 min read

خونریزی بند کرو، اپنا وعدہ نبھاؤ": جموں کشمیرجوائینٹ ایکشن کمیٹی کی ایڈوائزری کونسل کی صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس سٹاف اور سیاسی قیادت سے راولاکوٹ میں خونریزی روکنے کی اپیل

ایڈوائزری کونسل کا مؤقف: راولاکوٹ میں کریک ڈاؤن اعتماد شکنی، انسانی حقوق کا ہنگامی بحران اور کشمیری عوام کے شہری و سیاسی حقوق سے متعلق پاکستان کے اپنے وعدوں کا امتحان ہے

راولاکوٹ / مظفرآباد / اسلام آباد / لندن

۸ جون ۲۰۲۶

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کی ایڈوائزری کونسل نے صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر، چیف آف ڈیفنس سٹاف اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ایک ہنگامی مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں راولاکوٹ اور آزاد جموں و کشمیر بھر میں جاری خونریزی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر، پاکستان کی کوئی معمولی انتظامی اکائی نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جس کی آئینی اور بین الاقوامی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یو این سی آئی پی کی قراردادوں کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام سے پاکستان کے اعلانیہ وعدوں سے جڑی ہوئی ہے۔

خط میں یاد دلایا گیا ہے کہ 3 اکتوبر 2025 کو وزارتِ خارجہ پاکستان نے واضح طور پر کہا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام "اپنے شہری اور سیاسی حقوق آزادانہ طور پر استعمال کرتے ہیں" اور پاکستان ان کے "وقار کے تحفظ" اور "پرامن اجتماع و احتجاج کے حق" کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

ایڈوائزری کونسل کے مطابق 7 تا 8 جون 2026 راولاکوٹ کے واقعات، جن میں شازیب حبیب کی نمازِ جنازہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اطلاعات، سوگواران کے خلاف طاقت کا استعمال، مواصلاتی بندش، گرفتاریاں اور زخمیوں کو طبی سہولیات سے محروم رکھنا شامل ہیں، اعتماد کی سنگین خلاف ورزی اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے حوالے سے پاکستان کے اپنے اعلانات کی صریح نفی ہیں۔

عوامی رپورٹس کے مطابق ہلاکتیں، گرفتاریاں اور بدستور کشیدہ صورتحال سامنے آ چکی ہے، جبکہ مقامی ذرائع زیادہ تعداد میں اموات اور سینکڑوں زخمیوں کا دعویٰ کر رہے ہیں، جن کی فوری اور آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

خط میں ایڈوائزری کونسل نے کہا:

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام دشمن نہیں ہیں۔ وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ کسی بیرونی طاقت کے ایجنٹ نہیں ہیں۔ وہ شہری ہیں، سوگوار ہیں، مزدور ہیں، تاجر ہیں، طلبہ ہیں، وکلا ہیں، مائیں، باپ اور نوجوان ہیں جو وقار، انصاف، جوابدہ طرزِ حکمرانی، تحریری معاہدوں پر عملدرآمد، منصفانہ نمائندگی اور جمہوری حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

خط میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان ایک طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی آزادیوں کی پامالی کی مذمت کرے اور دوسری طرف آزاد جموں و کشمیر میں انہی طرز کے اقدامات — مواصلاتی بندش، پرامن اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا، نمازِ جنازہ میں رکاوٹ، طبی امداد سے محرومی اور شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال — برداشت کرے، تو یہ ایک واضح تضاد ہوگا۔

ایڈوائزری کونسل نے کہا کہ موجودہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ 3 تا 4 اکتوبر 2025 کے مظفرآباد معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کا نتیجہ ہے، جو حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد کشمیر، وفاقی وزراء اور سیاسی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔

کونسل کے مطابق جے کے جے اے اے سی کے چارٹر آف ڈیمانڈز کو اصولی طور پر تسلیم کیا گیا، پاکستان نے ضامن کا کردار ادا کیا، مگر معاہدے پر اس کی روح اور متن کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

خط میں پاکستان کی سول و عسکری قیادت، حکومتِ آزاد کشمیر اور تمام سیاسی جماعتوں سے فوری اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا:

"ابھی بھی رکنے کا وقت ہے۔ ابھی بھی غور و فکر کا وقت ہے۔ ابھی بھی جانیں بچانے کا وقت ہے۔ لیکن یہ وقت ابھی ہے۔"

جے کے جے اے اے سی ایڈوائزری کونسل کے اہم مطالبات

۱۔ راولاکوٹ اور آزاد جموں و کشمیر بھر میں فوری طور پر سیکیوریٹی فورسز کے آپریشن کا خاتمہ اور کشیدگی میں کمی۔

۲۔ شہریوں، سوگواران اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف فائرنگ، چھاپوں، جبری گرفتاریوں اور گھروں کی تلاشیوں کا خاتمہ۔

۳۔ شازیب حبیب اور دیگر تمام جاں بحق افراد کی نمازِ جنازہ اور تدفین پُرامن اور باوقار انداز میں کرنے کی اجازت۔

۴۔ تمام زخمیوں کو سی ایم ایچ راولاکوٹ اور دیگر ہسپتالوں میں فوری طبی سہولیات کی فراہمی۔

۵۔ زخمیوں کے علاج، جاں بحق افراد کی شناخت، متاثرہ خاندانوں کی معاونت اور شواہد کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر، آزاد ڈاکٹروں اور انسانی ہمدردی کے مبصرین کو رسائی دی جائے۔

۶۔ جاں بحق، زخمی، گرفتار اور لاپتہ افراد کی مصدقہ فہرستیں فوری طور پر جاری کی جائیں۔

۷۔ میتوں کا تحفظ، باوقار انداز میں اہلِ خانہ کے حوالے کرنا اور آزادانہ دستاویز بندی کو یقینی بنایا جائے۔

۸۔ آزاد جموں و کشمیر بھر میں انٹرنیٹ، موبائل اور واٹس ایپ سروسز فوری بحال کی جائیں۔

۹۔ گھروں پر چھاپوں، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے اور خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

۱۰۔ تمام زیر حراست افراد کو رہا کیا جائے یا فوری طور پر عدالتوں میں پیش کر کے وکلا اور اہلِ خانہ تک رسائی دی جائے۔

۱۱۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن پر عائد پابندی ختم کی جائے کیونکہ یہ ایک پُرامن شہری و سیاسی حقوق کی تحریک ہے۔

۱۲۔ شازیب حبیب کے قتل، سوگواران پر فائرنگ، اموات و زخمیوں، طبی امداد سے محرومی، من مانی گرفتاریوں اور پولیس، نیم فوجی و عسکری اداروں کے کردار کی آزاد، عدالتی اور بین الاقوامی معیار کی تحقیقات کرائی جائیں۔

۱۳ ۔ مظفرآباد معاہدے پر عملدرآمد کے لیے 48 گھنٹوں کے اندر عوامی روڈ میپ جاری کیا جائے۔

۱۴۔ جے کے جے اے اے سی کی کور کمیٹی اور اس کی نامزد مذاکراتی ٹیم کے ساتھ فوری مذاکرات بحال کیے جائیں۔

ایڈوائزری کونسل کا بیان

ایڈوائزری کونسل کے ترجمان نے کہا:

"یہ وقت ریاستی بصیرت اور ذمہ داری کا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا اخلاقی مؤقف اس صورت میں برقرار نہیں رہ سکتا اگر آزاد جموں و کشمیر کے کشمیریوں کی جانوں کو غیر اہم سمجھا جائے۔ پہلی ذمہ داری قتل و خونریزی روکنا ہے۔ عزم کا پہلا ثبوت یہ ہے کہ زخمیوں کو علاج، جاں بحق افراد کو تدفین، زیر حراست افراد کو قانونی حقوق اور عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا حق دیا جائے۔"

ترجمان نے مزید کہا:

"آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے دہائیوں تک مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اخلاقی مؤقف کو مضبوط کیا ہے۔ انہیں اب سکیورٹی مسئلہ بنا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہم صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد کشمیر اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ رکیں، غور کریں، اقدام کریں اور جانیں بچائیں۔"

سیاسی جماعتوں سے اپیل

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کی ایڈوائزری کونسل نے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر طاقت کے استعمال کے خاتمے، مواصلاتی نظام کی بحالی، طبی سہولیات تک رسائی، نمازِ جنازہ کے تحفظ، زیر حراست افراد کی رہائی یا عدالتوں میں پیشی، مظفرآباد معاہدے پر عملدرآمد اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کے حق میں آواز بلند کریں۔

خط میں خبردار کیا گیا ہے:

"اس وقت کی خاموشی تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔"

جاری کنندہ:

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن ایڈوائزری کونسل

(JKJAAC Advisory Council)

Click here to read the letter

© 2025 Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee. All rights reserved.

CONTACT US