کشمیر کی آزادی اور وقار کا سفر: ہمارا وطن، ہمارا حقِ فیصلہ
کشمیر کی تاریخی شناخت، قومی وقار اور حقِ خودارادیت پر ایک بےباک تحریر، جو پاکستان کی کشمیر پالیسی اور «لاڈلہ بچہ» جیسے بیانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کشمیری عوام کے اس مؤقف کو اجاگر کرتی ہے: یہ وطن ہمارا ہے، اس کے مستقبل کا فیصلہ بھی ہم کریں گے۔
Farhat Rashid Farhat
9/24/20261 min read
کشمیرکی آزادی اور وقار کاسفر
ایک پڑوسی چودھری چیخ رھا ھے۔۔۔۔چلا رھا ھے۔۔۔۔فریاد کر رھا ھے ۔۔۔۔۔شکوہ کر رھا ھے ۔۔ ۔۔صفائیاں پیش کر رھا ھے۔۔۔۔۔وضاحتیں جاری کررھا ھے•
اس کے سابقہ بیانات کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھئیے ۔۔۔۔پہلے کہہ رھا تھا ۔
"کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کا مسلہ ہے ، وہ جو فیصلہ کریں ہمیں قبول ہو گا"
" ھم سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حامی ھیں"
اب یہ کہتا ھے۔۔۔" کشمیر پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ ھے"
"••••لاڈلہ بچہ۔۔۔۔۔
اس لفظ کو کشمیری عوام اپنے لئے ایک گالی تصور کر رھے ھیں ۔
چوھدری کے منہ سے یہ سن کر انھیں سخت رنج ہوا ھے۔
یہ ان کی تحقیر کے برابر ہے ۔
یہ ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔
اسلئے کہ۔۔۔
کشمیر۔۔۔جو جنت ارضی ہے۔
جو ایشیا کی انگوٹھی کا نگینہ ھے۔
جو فردوس بریں ھے۔۔
جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے ۔
جو گزشتہ 8 دھائیوں سے اپنی وحدت ،عزت ، اور آزادی کے لیے بر سرِ پیکار ہیں۔
جس کے عوام غلامی، جبر، استحصال اور ظلم و بر بریت کیخلاف نبردآزما ھیں ۔
جو اپنے وطن عزیز جموں کشمیر کو دنیا کی آزاد اور باوقار قوموں کی صف میں شامل کرنا چاہتے ہیں ۔
•جس کی مستند معلوم تاریخ 6000 برسوں پر محیط ہے ۔
•جو عظیم الشان جغرافیہ کا حامل ملک ھے۔
اسے اگر اڑوس پڑوس کا کوئی چودھری اٹھ کر " لاڈلہ بچہ " کہے گا تو کتنے دکھ کی بات ھے۔آزاد کشمیر تو مکمل ریاست جموں کشمیر کا صرف 5 فیصد حصہ ھے ۔اس آزاد کشمیر سے چھ گنا بڑا علاقہ(28 ھزار مربع میل) "گلگت بلتستان" تو پہلے ھی چودھری کے قبضے میں ھے۔ جبکہ اس کا 3 گنا حصہ " اقصائی چن" چین کے زیر قبضہ ھے۔ اور دس گنا بڑا علاقہ بھارت کے قبضے میں ھے ۔
اگر یہ آپ کا لاڈلہ بچہ تھا تو آپ نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے ھونا کیسے گوارہ کیا؟.... اس کی بندر بانٹ کیوں کی؟ ...اس کی وحدت کو پارہ پارہ کیوں کیا؟ ...اس کے وسائل کیوں لوٹے؟.... اس کی تہذیب و ثقافت کیوں ملیا میٹ کی؟ .... اس کی آزادی کا خواب چکناچور کیوں کیا۔۔؟ ....اس کے جیتے جاگتے انسانوں پر وحشیانہ فائرنگ کیوں کر رھے ھو۔۔۔؟
چوھدری صاحب میرے کچھ سوالات ھیں۔۔۔۔۔!
1..22 اکتوبر 1947 ء کو ریاست جموں کشمیر پر شب خون مارنے کےلئے مسلح قبائلی لشکریوں کو کس نے کشمیر بھیجا۔۔۔؟
2..ان وحشی درندوں نے کس کی پشت پناہی پر کشمیر میں خون کی ندیاں بہائیں۔۔۔۔؟
3.. اقوام متحدہ میں کشمیر کیس کا حلیہ کس نے بگاڑا۔۔۔؟
4.. اقوام متحدہ کے روبرو کشمیر سے فوجیں نکالنے کے وعدے سے کون مکر گیا۔۔؟
5..1960 میں بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدےمیں کشمیر کے تین دریا کس نے بھارت کے ھاتھ فروخت کیے،،،؟
1951 ء میں " نہرو بوگرا مذاکرات" میں " ادھر تم ، ادھر ھم" کا فارمولا کس نے پیش کیا۔
6..1961ء کے بھٹو سورن سنگھ مذاکرات میں تقسیم کشمیر کو مسئلے کا حل کس نے قرار دیا۔۔؟
7...1966 ء کو تاشقند کے برف خانے میں کشمیر کو مردہ گھوڑا قرار دے کر کس نے دفن کیا۔۔؟
8.. 1972 ء کے شملہ معاہدے میں اپنے جنگی قیدی رہا کروانے کے لیے کشمیر کا سودا کس نے کیا۔۔؟
9.. 5 اگست 2019 ءکو بھارت نے کس کے ایماء پر کشمیر کا 70 فیصد حصہ اپنے ساتھ ضم کر لیا اور اسکی ریاستی حیثیت ختم کر دی ۔۔؟
چودھری صاحب ۔۔۔!
میرے مذکورہ بالا تمام سوالات کا باری باری جواب دیں۔۔اور اس بات کی بھی وضاحت کر یں کہ جنرل باجوا نے کیوں کہا تھا "ھمارے ٹینکوں میں بھارت سے لڑنے کےلئے تیل نہیں ھے".
جناب والا ۔۔۔!
کشمیر کو ڈالروں اور پاونڈوں کے عوض بھارت کے ھاتھ فروخت کر کے ۔۔۔تجوریاں بھر کر۔۔۔بیرون ملک بنگلے اور جزیرے خرید کر ۔۔۔ امریکہ اور یورپ میں پراپرٹی بنا کر ۔۔۔۔۔
اب آپ کیسے کہہ سکتے ھیں " کشمیر لاڈلہ بچہ ھے"
کیا آپ کشمیریوں کو اتنا بے وقوف سمجھتے ھیں کہ وہ آپ کی بیان بازی پر یقین کر لیں گے۔۔؟
آپ کا یہ بیان کشمیر کی عظیم الشان تاریخ ،جغرافیہ ، تہذیب و تمدن اور قومی تشخص کی توھین کے مترادف ھے۔۔
اس بیان سے ھمیں جھوٹ ، منافقت ، اور مکرو فریب کی بو آرہی ہے ۔
یہ تو مگر مچھ کے آنسو بہانے والی بات ھے۔
چودھری صاحب ۔۔۔! آپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ بھمبر سے لے کر نیلم ویلی تک ھمارا کشمیر آپ کے وردی پوش وحشی درندوں نے خون سے لالہ زار بنا دیا ھے۔آپ کی بھیجی ھوئی حملہ آورفورسزڈڈیال ، میرپور، کوٹلی،راولاکوٹ ، دھیر کوٹ اور مظفرآباد میں معصوم نہتے کشمیریوں کے خون کی ھولی کھیل رھی ھیں۔۔۔
چوھدری صاحب ۔۔۔!
آپ کا وزیر دفاع تو کہتا ھے۔۔" راولاکوٹ میں دھرنا دینے والوں کو ھم اسی طرح اپنا دشمن سمجھتے ھیں جس طرح ھندستان کو،"
اسی خواجہ سرا نے یہ بھی کہا تھا" راولاکوٹ اور میرپور کے لوگ کشمیری نہیں ھیں".
آپ کا ایک اور وزیر آزاد کشمیر کے 90 فیصد لوگوں کو بھارت کا ایجنٹ قرار دے رھا ھے۔۔۔
چوھدری صاحب برا نہ مانئے۔۔!
آپ کی کشمیر پالیسی روز اول سے تضادات ، خلفشار اور انتشار کا شکار رہی ہے ۔ حالیہ برسوں میں یہ پالیسی لالچ ، ہوس، خود غرضی اور قبضہ گیری پر منتج ھوئی ھے۔
چودھری صاحب ۔۔۔۔!
گزشتہ روز جس وقت آپ یہ پریس کانفرنس کر رھے تھے عین اسی لمحے راولاکوٹ اور مظفرآباد میں آپ کے بھیجے ہوئے رینجرز، ایف سی اور پی سی کے اہلکار کشمیر کے بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کو گولیوں سے چھلنی کر رھے تھے۔اسی لے محمود اچکزئی نے کہا تھا" آزاد کشمیر میں لوگوں پر فائرنگ اس طرح کی جا رھی ھے جس طرح شکاری پرندوں پر فائر کرتا ھے۔"
چوھدری صاحب ۔۔۔۔۔!
میری تلخ نوائی گوارہ کیجئے۔۔۔
آپ نے اپنی شہ رگ پر چھری پھیر دی ھے۔
آپ کشمیر کا مقدمہ بار گئے ھیں ۔
آپ نے بربریت کا وہ کھیل کھیلا ھے جس نے بھارت کو بھی مات دے دی ھے۔
کشمیری عوام اب آپ کی اصلیت جان گئے ھیں۔
آپ نے کشمیریوں کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر، وکلاء ، اساتذہ ، علمائے کرام ، حفاظ قرآن ، کسان ، محنت کش ، مزدور، طلباء وطالبات ۔۔۔۔۔85 برس کے عمر رسیدہ حریت پسند راہنما کمانڈر فاروق خان سے لے کر پریپ کلاس کی 7 سالہ طالبہ آمنہ شکیل تک سینکڑوں بے گناہ افراد شھید کر دئیے ھیں۔۔۔ان میں سے کسی ایک ھاتھ میں ھتیار نہیں تھا۔ سب نہتے اور خالی ھاتھ تھے۔
ان نہتے معصوم کشمیریوں کے خون سے آپ کے ھاتھ رنگے جا چکے ھیں۔
اس خون نے کشمیریوں کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ ان کے سب مغالطے رفع ھو گئے ھیں۔
اس لئیے اب کوئی غیرت مند کشمیری آپ سے سستا آٹا ، سستی بجلی ، صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات نہیں مانگے گا۔۔۔اب وہ شہر انقلاب راولاکوٹ سے لے کر لندن کی شاھراھوں تک صرف اور صرف یہ نعرے بلند کر رھے ھیں۔۔۔
ھم کیا چاھتے ۔۔۔۔۔آزادی
ھے حق ھمارا۔۔۔۔۔۔۔۔آزادی
ھم چھین کے لیں گے۔۔۔۔۔ازادی
اس پار بھی لیں گے۔۔۔۔۔۔ آزادی
اس پار بھی لیں گے۔۔۔۔۔۔آزادی
تجھے دینا پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔آزادی
تو کیسے نہ دے گا۔۔۔۔۔۔ آزادی
تیرا باپ بھی دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ازادی
یہ وطن ۔۔۔۔۔۔ھمارا ھے
اس کا فیصلہ۔۔۔۔۔۔ ھم کریں گے
اس کی خاطر ۔۔۔۔۔۔ھم کریں گے
جوانیاں لٹائیں گے ۔۔۔انقلاب لائیں گے
روکھی سوکھی کھائیں گے۔۔۔۔انقلاب لائیں گے۔
ماریں گے مر جائیں گے۔۔۔۔۔انقلاب لائیں گے۔
یہ نعرے کشمیری عوام کا دستور و منشور بن چکے ھیں۔۔۔۔۔۔۔گلی گلی کی پکار بن چکے ھیں۔۔۔۔۔۔
نوشتہ دیوار پڑھ لو۔۔۔ھوش کے ناخن لو۔۔۔۔ریاست جموں کشمیر پر جابرانہ قبضے کا خواب چھوڑ دو۔۔۔۔ریاست جموں کشمیر سے اپنی درندہ صفت فورسز واپس بلاؤ ۔۔۔۔۔۔ورنہ کشمیر کے یہ انقلابی سر فروش تمھارا نام و نسب مٹا دیں گے۔
© 2025 Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee. All rights reserved.
CONTACT US