عوام وقار کے لیے مارچ کر رہے ہیں، بدامنی کے لیے نہیں”: جموں کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ایڈوائزری کونسل کا کور کمیٹی اور عوامِ آزاد کشمیر کے نام فوری مشاورتی پیغام

ایڈوائزری کونسل کی لانگ مارچ کے راولاکوٹ کے مضافات تک پہنچنے پر نظم و ضبط، امن اور اتحاد کی اپیل؛ حکومت سے فائرنگ بند کرنے، شہدا کے جسدِ خاکی واپس کرنے، زخمیوں کے علاج، مواصلات کی بحالی اور فوری مذاکرات کا مطالبہ

6/10/20261 min read

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی ایڈوائزری کونسل نے جے کے جے اے اے سی کور کمیٹی، سول سوسائٹی قیادت، اور آزاد جموں و کشمیر کے باہمت عوام کے نام ایک فوری مشاورتی نوٹ جاری کیا ہے، جس میں امن، نظم و ضبط، انسانی جانوں کے تحفظ، باوقار ڈی اسکیلیشن اور مذاکرات کی فوری بحالی پر زور دیا گیا ہے۔

ایڈوائزری کونسل نے بھمبر، سماہنی، میرپور، ڈڈیال، کھوئی رٹہ، کوٹلی، پلندری، بلوچ، تراڑکھل اور ہجیرہ سے لانگ مارچ میں شریک ہونے والے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، جنہوں نے کرفیو، تشدد، خوف اور ریاستی جبر کے باوجود امن، وقار، انصاف، عوامی شراکت پر مبنی حکمرانی، حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کے لیے سفر جاری رکھا۔ کونسل کے مطابق اس لانگ مارچ نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام تشدد، دہشت گردی یا بدامنی کے لیے نہیں بلکہ وقار، انصاف اور جمہوری جوابدہی کے لیے متحرک ہیں۔

ایڈوائزری کونسل نے میرپور میں تین پُرامن لانگ مارچ شرکا اور کوٹلی میں چھ افراد کی شہادت، اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے کہا کہ اس کی دعائیں، ہمدردیاں اور یکجہتی تمام شہدا کے خاندانوں، زخمیوں، گرفتار افراد اور لاپتہ افراد کے ساتھ ہیں۔

ایڈوائزری نوٹ میں کونسل نے کہا:

“لانگ مارچ اپنا طاقتور پیغام دے چکا ہے۔ دسیوں ہزار عوام کی شرکت کوئی امن و امان کا مسئلہ نہیں؛ یہ عوامی غصے، جمہوری خواہش، محرومی اور اعتماد کے ٹوٹنے کا تاریخی اظہار ہے۔”

ایڈوائزری کونسل کے مطابق پچاس ہزار سے زائد عوام کی شرکت اس بات کا واضح مطالبہ ہے کہ 3 اور 4 اکتوبر 2025 کے معاہدۂ مظفرآباد پر عمل درآمد کیا جائے، منصفانہ نمائندگی یقینی بنائی جائے، جوابدہ حکمرانی قائم کی جائے، شہری و سیاسی حقوق کا احترام کیا جائے، عوامی اعتماد بحال کیا جائے، اور حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کو تسلیم کیا جائے۔

کور کمیٹی اور تحریک کی قیادت کے نام پیغام

ایڈوائزری کونسل نے جموں کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی، ضلعی قیادت، وکلا، تاجروں، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، نوجوان رضاکاروں اور سول سوسائٹی منتظمین سے اپیل کی ہے کہ اس نازک مرحلے پر انتہائی نظم و ضبط برقرار رکھا جائے۔

کونسل نے تمام شرکا کو مشورہ دیا ہے کہ:

· لانگ مارچ کے ہر مقام پر پُرامن نظم و ضبط برقرار رکھا جائے؛

· جہاں ممکن ہو، تصادم سے گریز کیا جائے؛

· اشتعال دلانے والے عناصر کو تحریک کی شناخت مت بننے دیا جائے؛

· خواتین، بچوں، بزرگوں، صحافیوں، طبی رضاکاروں اور کمزور شرکا کا تحفظ یقینی بنایا جائے؛

· شہادتوں، زخمیوں، گرفتاریوں اور لاپتہ افراد کا ریکارڈ ذمہ داری سے مرتب کیا جائے؛

· افواہوں سے گریز کیا جائے اور صرف تصدیق شدہ معلومات شیئر کی جائیں؛

· کور کمیٹی کے تحت اتحاد برقرار رکھا جائے؛

· اور اگر حکومت قابلِ اعتماد ڈی اسکیلیشن اقدامات کرے تو لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا امکان کھلا رکھا جائے۔

ایڈوائزری نوٹ میں کہا گیا:

“تحریک کی طاقت اس کا نظم و ضبط ہے۔ اس کی قانونی و اخلاقی حیثیت اس کا پُرامن کردار ہے۔ اس کی اصل قوت اس کے عوام ہیں۔”

حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے نام پیغام

ایڈوائزری کونسل نے خبردار کیا ہے کہ راولاکوٹ میں کرفیو نافذ ہے، لانگ مارچ راولاکوٹ کے مضافات تک پہنچ چکا ہے، اور مزید جانی نقصان کا حقیقی اور فوری خطرہ موجود ہے۔

کونسل نے آزاد حکومت، حکومتِ پاکستان اور تمام سیکیورٹی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی تحریک کو میدانِ جنگ سمجھنا بند کریں اور فوری طور پر:

1. پُرامن مظاہرین پر فائرنگ بند کریں؛

2. شہریوں کے خلاف فوجی طرز کی کارروائیاں روکیں؛

3. محفوظ راستہ، طبی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی کے لیے کرفیو ختم یا نرم کریں؛

4. شہدا کے جسدِ خاکی اُن کے خاندانوں کے حوالے کریں تاکہ اسلامی روایات کے مطابق باوقار تدفین ہو سکے؛

5. نمازِ جنازہ کو بغیر مداخلت ادا کرنے دیں؛

6. سی ایم ایچ راولاکوٹ سمیت تمام ہسپتال زخمی شہریوں کے لیے کھولیں، بغیر گرفتاری یا دھمکی کے؛

7. گھروں پر چھاپے، ہراسانی اور من مانی گرفتاریاں بند کریں؛

8. انٹرنیٹ، موبائل اور واٹس ایپ سروسز بحال کریں؛

9. شہری آبادی کو خوف زدہ کرنے کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹرز، ڈرونز یا فضائی دباؤ کا استعمال بند کریں؛

10. جے کے جے اے اے سی کور کمیٹی کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے فوری حالات پیدا کریں۔

ایڈوائزری نوٹ میں واضح طور پر کہا گیا:

“اگر حکومت لانگ مارچ کو روکنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے تشدد کو روکنا ہو گا۔”

لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کی کم از کم شرائط

ایڈوائزری کونسل کے مطابق مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے لانگ مارچ اب بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے، مگر صرف اس صورت میں جب حکومت مذاکرات کے لیے قابلِ اعتماد حالات پیدا کرے۔

کونسل کے مطابق کم از کم فوری شرائط یہ ہیں:

· فوری طور پر کریک ڈاؤن اور طاقت کے استعمال کا خاتمہ؛

· فائرنگ، شیلنگ، لاٹھی چارج یا فضائی خوف و ہراس کا مکمل خاتمہ؛

· تمام شہدا کے جسدِ خاکی خاندانوں کے حوالے کیے جائیں تاکہ باوقار تدفین ہو سکے؛

· تمام زخمی شہریوں کو طبی امداد تک رسائی دی جائے؛

· پُرامن گرفتار افراد کو رہا کیا جائے یا عدالتوں میں پیش کیا جائے؛

· مواصلاتی نظام بحال کیا جائے؛

· جے کے جے اے اے سی پر عائد پابندی واپس یا معطل کی جائے؛

· جے کے جے اے اے سی کور کمیٹی اور مذاکراتی نمائندوں کے لیے محفوظ راستہ اور تحفظ کی ضمانت دی جائے؛

· پاکستان اور آزاد کشمیر کے بااختیار فیصلہ سازوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیے جائیں؛

· معاہدۂ مظفرآباد پر عمل درآمد کے لیے ٹائم باؤنڈ روڈ میپ کی تحریری یقین دہانی دی جائے۔

ایڈوائزری کونسل نے زور دیا ہے کہ یہ شرائط غیر معقول نہیں بلکہ جانیں بچانے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بنیادی اقدامات ہیں۔

ایڈوائزری کونسل مذاکرات کی بحالی میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار

ایڈوائزری کونسل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جے کے جے اے اے سی کور کمیٹی، آزاد حکومت، حکومتِ پاکستان اور تمام متعلقہ فیصلہ سازوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے فوری طور پر مشاورت، مدد اور ثالثی میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

کونسل کے مطابق وہ ایک پُرامن ڈی اسکیلیشن فریم ورک کی حمایت کے لیے تیار ہے، جس کی بنیاد جانوں کے تحفظ، مواصلات کی بحالی، طبی امداد تک رسائی، گرفتار افراد کی رہائی یا قانونی پیشی، شہادتوں اور زخمیوں کی آزادانہ تحقیقات، تحریری معاہدوں پر عمل درآمد، اور منصفانہ نمائندگی و عوامی شراکت پر مبنی حکمرانی کے قابلِ اعتماد طریقۂ کار پر ہو۔

اختتامی اپیل

ایڈوائزری کونسل نے کہا ہے کہ یہ انتہائی خطرے کا لمحہ ہے، مگر ساتھ ہی تاریخی ذمہ داری کا لمحہ بھی ہے۔

کونسل نے براہِ راست اپیل کرتے ہوئے کہا:

“قتل بند کرو۔ شہدا کے جسدِ خاکی واپس کرو۔ زخمیوں کا علاج کرو۔ مواصلات بحال کرو۔ مذاکرات شروع کرو۔ معاہدۂ مظفرآباد پر عمل کرو۔ حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کا احترام کرو۔”

ایڈوائزری کونسل نے مزید کہا:

“لانگ مارچ میں شریک لوگ دشمن نہیں ہیں۔ یہ آپ کے اپنے لوگ ہیں۔ شہریوں پر فائر نہ کریں۔ گن شپ ہیلی کاپٹرز یا ڈرونز سے آبادیوں کو خوف زدہ نہ کریں۔ سیاسی ناکامی کو انسانی المیہ نہ بنائیں۔”

اختتام

© 2025 Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee. All rights reserved.

CONTACT US