آزادکشمیر کا موجودہ بحران اور قیادت کا مرحلہ وار خلاء - عارف بہار

یہ ایک تجزیاتی اور فکری تحریر ہے جو آزاد کشمیر کے موجودہ سیاسی بحران، قیادت کے فقدان اور بدلتے ہوئے عوامی شعور کا گہرائی سے جائزہ لیتی ہے۔ مضمون میں ماضی کی بااثر سیاسی شخصیات کے کردار، ان کے بعد پیدا ہونے والے خلا، اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ابھار کو تاریخی تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا آزاد کشمیر کی روایتی سیاست نئی نسل کے تقاضوں اور عوامی توقعات کا جواب دینے میں ناکام ہو چکی ہے، یا پھر یہ ایک نئے سیاسی دور کی شروعات ہے؟ ایک فکر انگیز تحریر جو موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ضرور پڑھی جانی چاہیے۔

6/18/20261 min read

عوامی ایکشن کمیٹی سرکاری کاغذوں میں کالعدم تو قرار پاچکی ہے مگر حق حکمرانی اور حق ملکیت کے نعروں کے ساتھ سسٹم کے ساتھ ٹکرانے والی یہ قوت آزادکشمیر کی تاریخ اور اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان اختیارات اور متوازن تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر گئی ہے۔آزادکشمیر میں بحران کا پھوڑا ناسور کیسے بنا؟اس کی کئی وجوہات ہیں۔جن میں گورننس کا ماڈل اور قیادت کے میدان میں پیدا ہونے والا خلاء اور اختیارات کو غیر ریاستی مرکزی اداروں اور شخصیات میں مرتکز کرنے کی حکمت عملی ہے۔اس لئے رواں بحران کا موازنہ میں پچاس کی دہائی میں پونچھ کے علاقوں میں چلنے والی سدھن تحریک سے کرتا رہا ہوں۔یہ تحریک سردار ابراہیم خان کی وزارت امور کشمیر کے دباؤ میں برطرفی کے بعد شروع ہوئی اور اس کا نعرہ آزادکشمیر میں جمہوریت کی بحالی تھا۔اس تحریک میں مرکزی حکومت نے طاقت کا استعمال کیا اور سدھن قبیلہ کے نوجوانوں نے بے جگری سے طاقت کا مقابلہ کیایہاں تک کہ کئی برس کی مارا ماری کے بعد ایک کھلے میدان میں وزیر امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی اور تحریک کے قائد سردار محمد ابراہیم خان کو باضابطہ معاہدہ کرنا پڑا۔آج پھر راولاکوٹ سندھنوتی ہجیرہ سمیت وہی علاقے وہی لوگ اس تحریک کا محور ومرکز ہیں بلکہ ایکشن کمیٹی اور اس پر شور انداز کے احتجاج کی بنیاد ہی راولاکوٹ سے پڑی۔آزادجموں وکشمیر اور مقبوضہ جموں وکشمیر متحدہ ریاست جموں وکشمیر کے دو ایسے حصے ہیں جن کا سیاسی مزاج اور کلچر بہم ایک نہ سہی مگر دونوں کی تاریخ ایک ہے۔1947کے بعد دونوں خطوں میں مختلف قیادتیں اُبھریں اور وقت کی مسافتوں میں گم ہوتی چلی گئیں۔مقبوضہ کشمیر میں شیخ محمد عبداللہ تقسیم سے پہلے بھی مقبول رہے اور اس کے بعد بھی مدتوں تک مقبولیت کی لہر پر سوار رہے۔وہ جب تک زندہ رہے کشمیری عوام پر اپنی گرفت قائم رکھے رہے ان کی موت کے بعد سری نگر کی سیاست میں جو خلاء پیدا ہوا اسے فاروق عبداللہ سمیت کوئی بھی پرنہ کر سکا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر میں دیوار سے لگے بیٹھے آزادی پسندوں اور دبی ہوئی آوازوں کو تقویت ملنا شروع ہوگئی اور ایک روز حالات کی پرانی بساط ہی لپٹ کر رہ گئی۔آزادکشمیرمیں شیخ عبداللہ کی سطح کی مقبول قیادت تو کبھی اُبھر نہ سکی مگر ماہ سال کی گردش میں مخصوص حلقوں پر اپنا اثر اور گرفت رکھنے والی شخصیات منظر پر آتی اور عوامی جذبات کو سیاسی دھارے میں رکھ کر کنٹرول کرنے کی کامیاب حکمت عملی اختیار کرتی رہیں۔ان میں چار پانچ نام نمایاں ہیں جو ساٹھ کی دہائی اور اس کے بعد سیاست میں زیادہ فعال ہو تے چلے گئے۔آزادکشمیر کی سیاست سے آزادی سے پہلے کسی گملے کسی نرسری میں اُگنے کی بجائے فطری انداز میں نمو پانے والے اعلیٰ ترین قد آور سیاسی لوگوں کے دنیا سے اُٹھ جانے کا عمل اسی کی دہائی میں سابق صدر آزاد کشمیر اور قائد اعظم کے سابق سیکرٹری کے ایچ خورشید کی حادثاتی موت سے شرو ع ہوا۔کے ایچ خورشید اس وقت آزادکشمیر اسمبلی کے قائد حزب اختلاف تھے اور وہ وفات کے وقت آزادکشمیر حکومت کے خلاف ایک زوردار احتجاجی تحریک کی قیادت کررہے تھے۔آزاد کشمیر کے بدلتے ہوئے سیاسی ماحول میں کے ایچ خورشید سیاسی طور پر کمزور ہو چکے تھے اور ان کی جماعت قانون ساز اسمبلی کی صرف چار نشستیں جیت پائی تھی مگر وہ ایک بہترین قانون دان،بے بدل پارلیمنٹیرین،بلا کے دیانت دار اور آزادکشمیر اور مہاجرین مقیم پاکستان میں حد درجہ احترام کے حامل انسان تھے۔ان کی جماعت لبریشن لیگ بھی سیاست کی ایک نرسری تھی جس سے لوگ تیار ہو کر دوسری جماعتوں کا رخ کرتے رہے۔کے ایچ خورشید کی موت کے ساتھ ان کی جماعت کٹی ہوئی پتنگ بن کر ایک روز وقت کے فضاؤں میں گم ہوگئی اور یہ آزادکشمیر کی سیاست میں پیدا ہونے والا ایک خلاء تھاجسے پُر نہ کیا جا سکا۔نوے کی دہائی کے اواخر میں آزادکشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔سردار ابراہیم خان سدھن قبیلے کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر بھرمیں ایک قابل تکریم شخصیت تھے۔وہ سدھن قبیلے کے نوجوانوں کی ایک معقول تعداد کو قوم پرستانہ اور سخت گیر جذبات کے باوجود اعتدال میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے سردار خالد ابراہیم خان نے یہ خلاء کسی حد تک پر کیا مگر سردار خالد ابراہیم کی وفات کے بعد 1947سے پہلے کشمیر کی سیاست میں سرگرم یہ لگیسی بھی قریب قریب ختم ہوگئی ۔آزادکشمیر کی ایک اور اہم سیاسی شخصیت سردار عبدالقیوم خان تھے۔یہ کردار بھی 1947سے پہلے ہی ریاست جموں وکشمیر کے مطلع سیاست پر نمودار ہو چکا تھا۔انتہائی ذہین،دلیر اور دبنگ انسان تھے۔ایک قدم پیچھے ہٹ کر دو قدم آگے بڑھنے کے فن میں یکتا تھے۔اپنے نعروں تصورات اور ضرورتوں کو انہوں نے آزادکشمیر کے قانون اور اسلوب کا حصہ بنایا۔”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ اورآزادکشمیر کے آئین میں الیکشن لڑنے کے لئے الحاق پاکستان کی شرط کا اطلاق انہی کے ذہن رسا کی تخلیق تھا اسی نعرے کی بنیاد پر وہ آزادکشمیر میں اپنے حریفوں کو چاروں شانے چِت کرتے رہے بلکہ اسلام آباد کی بیوروکریسی کو بھی اپنا ہمنوا بنائے رہے۔سردار ابراہیم خان،کے ایچ خورشید اور چوہدری نورحسین جیسے سیاسی حریفوں کے مقابلے میں چونکہ مذہبی وضع قطع کے انسان تھے تو اپنے پیروکاروں میں مرشد کا سا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مخالفت کی خود سر لہروں کے مقابلے میں کھڑا ہونے کی صلاحیت کے باعث عوام کے ایک حلقے پر ان کی گرفت قائم رہی۔سیاست میں کمزور ہوتے چلے گئے اور اس کے ساتھ ہی پیرانہ سالی کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہوگئے اور آزادکشمیر کی سیاست کا خلاء بڑھا گئے۔اس کے بعد ان کا سیاسی ورثہ زوال کا شکار ہوتا چلا گیا۔سردار سکندر حیات سابق وزیر اعظم اور سابق صدر آزادکشمیر بھی قومی سوچ کے حامل ایک قد آور سیاست دان تھے گوکہ ان کو راجپوت قبیلے کا لیڈر بنا کر پیش کیا جاتا رہا اس کے باوجود تمام حلقوں میں اثر رسوخ کے حامل تھے بالخصوص کوٹلی وغیرہ کے علاقوں میں ان کا اثر رسوخ اورعوامی پزیرائی موجود رہی۔ان کا انتقال بھی ایک وسیع حلقے میں طاقت کا خلاء چھوڑ گیا۔سردار سکندر حیات خان کا ذاتی سیاسی کردار 1947کے بعد شروع ہوا مگر ان کا خاندانی کردار اس سے پہلے سے چلا آرہا تھا ان کے دادا اوروالد متحدہ ریاست کی سیاست میں سرگرم تھے۔ سردار سکندر حیات خان بھی دوسرے تمام سیاسی راہنماؤں کی طرح دباؤ کی مزاحمت کرنے اور تلخ بات کرنے کا ہنر جانتے تھے۔اس سلسلے کی آخری کڑی صدر آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات سے ٹوٹ گئی۔سردار سکندر حیات خان کی طرح ان کا ذاتی سیاسی کردار بھی 1947کے بعد شروع ہوا مگر ان کے والد چوہدری نورحسین اس سے قبل ہی سیاست میں سرگرم تھے۔یہ وہ سیاسی قیادت تھی جو اسلام آباد کے منصوبہ سازوں کو مقامی عوامی نفسیات کو مزاج کو پیش نظر رکھ کر NOکہنے کی صلاحیت بھی رکھتی تھی اور اسلام آباد میں بھی اس”نو“ کو غداری یا بغاوت نہیں سمجھا جا تا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ہر پیروکار اپنے لیڈر کو مرد حر مسیحا اور کشمیری جذبات اور مفادات کا ترجمان سمجھتا اور اس اس پر یقین رکھتا تھا۔اس کے بعد YES کلچر نہ صرف عام ہوا بلکہ اسے وفا داری کا سب سے بڑا پیمانہ بنا دیا گیا۔یک رنگی اور یک رخی کی یہ خواہش آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کو کمزور کرتی چلی گئی۔ نوے کی دہائی میں سردار عبدالقیوم خان نے وزیر اعظم کے چیمبر میں ایک خصوصی انٹرویو میں میر ے اس سوال کے جواب میں کہ بیتے دنوں کی سیاست کے کس متروک پہلویا کردار کو مس کرتے ہیں،کہا تھا کہ” دکھ ہوتا ہے کہ اب پاکستان میں ہماری بات سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے حکمران اور سیاست دان تھے جن کے ساتھ اختلاف کے باوجود بات کرنے کا مزہ آتا تھا اور وہ باریک بات کو سمجھنے کا فن جانتے تھے“۔یوں یہ آزادکشمیر کی سیاسی ثقافت اور منظر سے چند بااثر سیاسی شخصیات کا اُٹھ جانا ہی نہیں تھا بلکہ یہ طاقت اعتبار اور ساکھ کے ملے جلے ہتھیار کے ساتھ آزادکشمیر کی سیاست اور معاشرت کو کنٹرول کرنے والوں کی کمی،کمزور ی اور بتدریج پیدا ہونے والا قحط الرجال بھی ثابت ہوا۔جب آزادکشمیر کی سیاست میں یہ متنوع خلاء پیدا ہو رہے تھے تو جنریشنز بھی بدل رہی تھیں۔ان کی ضروریات اور سوچ بھی بدل رہی تھی اطلاع اور ابلاغ کے ان کے ہتھیار اور اوزار بھی بدل رہے تھے۔ آزادکشمیر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تو پہلے ہی برطانیہ سمیت مغربی اور خلیجی ملکوں میں تھی حالیہ چند دہائیوں میں حالات سے مایوس اور بے روزگاری کا شکار ہو کر ہزاروں کی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان بیرونی دنیا کا رخ

کرتے چلے گئے۔یہ نوجوان اپنے معاشرے سے کٹے نہیں بلکہ اپنے نئے ٹھکانوں میں حاصل قانون کی حکمرانی،میرٹ،انصاف ترقی کے مواقع وامکانات اور سہولیات کا موازنہ اپنے آبائی علاقوں سے کرتے رہے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے نام پر آزادکشمیر میں جہادی سوچ کا ظہور،فروغ اور مقبولیت بھی ایک ایسا عنصر تھا جس نے آزادکشمیر کے نوجوان کو ایک الگ ہی دنیا میں مست اور،مصروف رکھا تھا۔ جنرل مشرف کے دور میں اس کلچر کی ریورسل نے نوجوانوں کے ایک طبقے کومایوس کیا اور پانچ اگست کے فیصلے کے خلاف سکوت نے اس دعوے کابھرم بھی ختم کر دیا کہ مشکل کی کسی گھڑی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔عملی طور پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو تنہائی کی بند گلی میں چھوڑ دیا گیاتھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں آزادکشمیر میں گورننس کا ماڈل تبدیل کرنے کی حددرجہ ضرورت تھی۔تاریخ میں کچھ ہی دور چل کر ایک موڑ ایساآتا ہے جہاں نسل نو کی سوچ میں تبدیلی در آتی ہے۔پرانی قیادت اور سیاست کا فسوں ٹوٹنے لگتا ہے۔یہاں مروجہ اور جمے جمائے نظام کے کارپردازوں پر تبدیلی کا انداز ہ لگا کر حکمت عملی کو تبدیل کرنا لازم ہوتا ہے اس حکمت ودانش کا مظاہرہ آزادکشمیر میں نہ ہوسکا۔ایسا نہیں کہ آزادکشمیر میں اسلام آباد کی موافق سیاست ہی ہوتی رہی ہو۔یہاں نوجوانوں اور سماج میں ریاست جموں وکشمیر کی مکمل بحالی اور ایک آزاد وخود مختار ریاست کے قیام کی سوچ بھی متوازی انداز میں چلتی رہی مگر اسے عوام میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل نہ ہو سکی۔سوائے اس مختصر دور کے جب 1989میں الحاق پاکستان کی حامی قوتوں کی طرف سے مسلح جدوجہد شروع کرنے سے انکار کے بعد اسلام آباد کو جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا بڑھا۔یوں لبریشن فرنٹ کشمیر کے دونوں حصوں میں اچھی خاصی مقبول جماعت بن گئی مگر1992میں کنٹرول لائن توڑنے کے مسئلے پر اسلام آباد کے منصوبہ سازوں سے اختلاف کے باعث اس جماعت کے گرد سرخ دائرہ لگ گیا اور یہ محاذ الحاق پاکستان کی حامی جماعتوں نے سنبھال لیا۔اسی طرح نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن،کشمیر فریڈم موومنٹ جیسی طلبہ تنظیمیں دہائیوں تک تعلیمی اداروں میں سرگرم رہیں۔جنہیں بعد میں کمزور کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔محمد مقبول بٹ،امان اللہ خان،یاسین ملک اس سوچ کے ہیروز رہے ہیں۔اس تنظیم نے آزادکشمیر کو سابق وزیر اعظم ممتاز راٹھو ر(موجودہ وزیر اعظم فیصل راٹھور کے والد) اور سابق سفیر پاکستان عارف کمال جیسے باصلاحیت لوگ فراہم کئے جو بعد میں مرکزی دھارے کی سیاست کرتے رہے۔شیخ محمد عبداللہ کے بعد سری نگر میں قیادت کا خلاء اس وقت گہرا ہوا تھا جب روایتی دھارے کی دوحریف جماعتوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس اور پروپاکستان حلقوں کی معتدل قوت میرواعظ مولوی محمد فاروق کو اتحاد اور تعاون کی لڑی میں پرودیاگیا۔نیشنل کانفرنس نے ایک طرف کانگریس سے اتحاد کیا تو دوسری طرف میرواعظ خاندان کی طرف سے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ڈبل فاروق اتحاد کرلیا۔یوں سیاست میں ایک خلاء پیدا ہوگیا جسے پر کرنے کے لئے نو جماعتی ریڈیکل مسلم متحدہ محاذ اسلام آزادی اور انصاف کے نعروں کے ساتھ میدان میں آگیا جس کے بعد حالات نے وہ کروٹ لی جس نے تاریخ کا دھار ا ہی موڑ کر رکھ دیا۔آزادکشمیر میں ایک طرف پرانی قیادت منظر سے ہٹ رہی تھی تو دوسری طرف پیپلزپارٹی اور مسلم کانفرنس جیسی دو بڑی روایتی اور سیاست کی کھلاڑی جماعتوں کو قریب کیا جانے لگا۔اس عمل نے قیادت اور طاقت کے خلاء کا آغاز کیا۔مسلم کانفرنس اور پیپلزپارٹی ہی دوجماعتیں تھیں جو دہائیوں سے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوتی تھیں اور عوام اس معرکے کو نظریاتی چاشنی کے ساتھ انجوائے کرتے تھے۔ان جماعتوں کو کسی نئے نظریہ ضرورت کے تحت ایک کیمپ میں اکٹھا کرنا ناقص حکمت عملی اورکوتا ہ اندیشی کا مظہر تھا۔بعد میں یہ تصور مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی یکجائی اور قربت کے ذریعے جوں جوں آگے بڑھتا چلا گیا آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی گرفت ڈھیلی پڑھتی چلی گئی۔ایک خلا ء واضح طور پر موجود تھا اور کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ لبریشن لیگ جیسی ریاستی جماعت کو بحال کرکے اس خلاء کو پر کیا جا سکتا ہے۔کئی شخصیات بھی دل میں یہ خواہش پالے ہوئے تھیں اور کئی مواقع پر آف دی ریکارڈ انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا مگر بات وہی تھی کہ تالاب میں پہلا کنکر کون پھینکتا ہے؟ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی جذبات اور خواہشات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اس تالاب میں پہلا پتھر پھینک دیا اور اب لہروں کا ارتعاش تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اب آزادکشمیر کی سیاست وریاست حالات کے جس بھنور میں پھنس گئی ہے اس سے کب اور کیسے نکلتی ہے؟وقت ہی بتائے گا۔تاریخ میں پہلی بار برطانیہ سمیت کئی مغربی ملکوں میں موجود آزادکشمیر کے باشندے ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی ہائی کمشن اور سفارتی خانوں کے سامنے احتجاج کرچکے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جو چند برس پہلے تک بھارتی سفارتی خانوں کے آگے سراپا احتجاج ہو ا کرتے تھے۔برطانوی پارلیمنٹ کے ساٹھ ارکان نے حکومت پاکستان کو خط لکھ کر اپنی تشویش ظاہر کی ہے کہ ان کے ووٹر آزادکشمیر میں اپنے آبائی علاقوں کے حالات سے پریشان ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں علامتی ہی سہی آزادکشمیر کے حالات پر دو جلوس نکالے جا چکے ہیں۔میرواعظ عمر فاروق اپنے ایکس اکاونٹ پر آزادکشمیر کے معاملات کو مذاکرات اور افہام وتفہیم سے حل کرنے کا مشور ہ دے چکے ہیں۔آج آزادکشمیر میں شاہ غلام قادر،راجا فاروق حیدر،سردار یعقوب خان،چوہدری یاسین،چوہدری لطیف اکبر فیصل راٹھور سرار عتیق احمد خان،سمیت جو بھی روایتی سیاسی قیادت منظر پر موجود ہے یا تو موجودہ حالات میں بروئے کار آرہی ہے یا حالات سے لاتعلق ہے۔اس قیادت کو NOکہنے کی سپیس دے کر دوبارہ فعال کرنا ممکن ہے۔ان کو ایک خیمے تلے اور ایک کشتی کے اوپر بٹھانا تنوع کے ابدی اصول کی نفی ہے اسی اصول کی نفی کی سزا آج آزادکشمیر کا معاشرہ بھگت رہا ہے۔

© 2025 Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee. All rights reserved.

CONTACT US